نئی دہلی، 3؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی حکومت میں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے اور سبھی اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں، لیکن برسراقتدار طبقہ اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا رہا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے آج اس مہنگائی کو لے کر ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آخر کس طرح مہنگائی غریبوں پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور ان کی زندگی محال کر دیتی ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بذریعہ ٹوئٹ ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں وہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ’’آج جو مہنگائی ہے وہ برداشت سے باہر ہے۔ آج مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ایک کلو سرسوں کا تیل تقریباً 200 روپے کلو ملتا ہے۔ دوسری طرف کسان کو ایک کلو گیہوں کے لیے 15 روپے ملتے ہیں۔ یعنی صرف ایک کلو تیل خریدنے کے لیے کسانوں کو 14 کلو گیہوں فروخت کرنا پڑتا ہے۔ آج یہ حالت ہے۔ آپ کسانوں کی تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں۔‘‘
اس ویڈیو کے ساتھ پرینکا گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں مہنگائی کا کسانوں پر پڑ رہے اثر کو لکھ کر بھی سمجھایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’مہنگائی کیسے اثر ڈالتی ہے۔ ایک لیٹر سرسوں کے تیل کی قیمت = کسان کے 14 کلو گرام گیہوں کی قیمت۔ ایک کسان فیملی کو مہینے بھر کا سرسوں تیل خریدنے کے لئے تقریباً ایک کوئنٹل گیہوں فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ نہ آمدنی بڑھی ہے، نہ کاشت میں بچت۔ مہنگائی کے قہر سے عام لوگ پریشان ہیں۔‘‘